Darling By Razia Butt Part II
Prof. Muhammad Akbar Qureshi
Razia Butt Ke Afsanoon Ka Majmua '' Darling '' Pesh-e-Khidmat Hai . Iss Main Razia Butt Ke 20 Afsaney Shamil Hain . Jo Apni Misal Aap Hain...........................
Download
Qasba Kahani By Tabassum Kashmiri
Prof. Muhammad Akbar Qureshi
O'Saka University of Foreign Studies Main Urdu Zaban-o-Adab Ke Visiting Professor Ka Pakistani Mash're Ki Psyche Par likha Gia Aik Alamati Novel hai...............
Download
Download
Mah-e-Maya By Salman Saddique
Prof. Muhammad Akbar Qureshi
1980 A.D Ki Dahai Ki Nasal Ka Taluq Ik Aisey Mashare Se Hai Jis Ke Sar Par Kisi Tarqi Pasand Tehreek Aur Nah Hi Kisi Mehdood -o-Paband Sochoon Ki Hamil Tanzimoon Ka Toti Boolta Hai................
Download
Download
Allah Megh Dey By Tariq Mehmood
Prof. Muhammad Akbar Qureshi
'' Allah Megh Dey '' is a story with a multiplicity of under tones. The wistful cry for rains in a country of rivers and rivulets symbolizes the estrangement of man from nature. Tariq Mehmood's style and approach are distinctly fresh. He is reflective without being introvert.
Download
Download
Darling By Razia Butt Part 1
Prof. Muhammad Akbar Qureshi
Razia Butt Ke Afsanoon Ka Majmua '' Darling '' Pesh-e-Khidmat Hai . Iss Main Razia Butt Ke 20 Afsaney Shamil Hain . Jo Apni Misal Aap Hain...........................
Behr-e- Ouqiyanoos K Kinaray By Imran Iqbal
Prof. Muhammad Akbar Qureshi
عمران اقبال ایک ایسا نوجوان سفرنامہ نگار ہے جس نے ایک سیاح کی بجائے ایک جستجو کرنے والے انسان کی طرح امریکہ دیکھا ہے۔ سفر نامہ لکھنے والے عام طور پر سفرنامے کی خاطر سفر کرتے ہیں لیکن عمران نے عام سفرنامہ نگاروں کی طرح امریکہ پر ایک طائزانہ نظر نہیں ڈالی اور نہ ہی مصنوعی اور امکانی رومان سے اُسے دلچسپ بنانے کی کوشش کی ہے بلکہ امریکی تہذیب کو اندر سے دیکھا،پرکھا اور برتا ہے۔ جس سے اس تہذیب کے اصل خدو خال سامنے آتے ہیں ۔یہ سفرنامہ رومانی واقعہ نگاری کی بجائے زندگی کی اصل تصویر پیش کرتا ہے۔ وہ تصویر جو بہت دلکش نہیں ہوتی مگر چھوئی اور محسوس کی جاسکتی ہے۔ زندگی کی اصل تصویر کو سچائی کے ساتھ پیش کرنے کے لیے عمران اقبال نے اپنے کردار کو بھی اسی طرح پیش کیا ہے جیسے اس کے ساتھ بیتی ہے۔ یہ سچائی ہی اُس کا کمالِ فن ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ '' بحر ِ اوقیانوس کے کنارے '' عمران اقبال کی ذہنی وسعت، اسلوب نگاری ، گہرے مشاہدے اور ناقابلِ اظہار کو قابلِ اظہار بنانے کے ہنر کا ثبوت ہے۔
Download
London-Ki-Woh-Shaam By Imran Iqbal
Prof. Muhammad Akbar Qureshi

'' لندن کی وہ شام''
کی کہانی دو بڑے کرداروں سراج الدین اور سمیعہ کے گرد گھومتی ہے ۔ رومان کی راہوں پر چلتے ہوئے جدائی کی متوازی راہ بھی ساتھ سفر کرتی ہے۔ اور ندی کے دو کناروں کی طرح ہے جو کبھی بھی آپس میں نہیں مل سکتے۔ مل سکنا یا مل لینا، پانا یا پالینا ہی تو زندگی کی اصل معراج نہیں ، اصل تو پانے کی خواہش میں فنا کے عمل سے گزرنا جانا ہی ہوتا ہے کہ جو مزہ جدائی کا دکھ سہنے میں ہے وہ الیک لمحے کو مل لینے میں نہیں ۔ کہانی کا آغاز لندن کے وسنط دسمبر کے سرد ترین دن سے ہوتا ہے اور اس کا مرکزی کردار سراج الدین عمر کے تریسٹھویں سال میں ہے اور یہی اس کا محور ہے۔ لندن کے بے پناہ سرد موسم میں اس کی نظریں ڈسٹرکٹ کورٹ کی پُر شکوہ عمارت پر گڑ جاتی ہیں اور اس کی یادوں کا سلسلہ چل نکلتا ہے۔ مصنف نے اس لمحے کو ۱۹۷۴ کے سال سے وابستہ کیا ہے۔ جب سراج الدین بہاول پور میں ماڈل ٹاؤن بی کی متوسطہ آبادی میں ایک پندرہ مرلے کے کشادہ اور صاف ستھرے مکان میں رہائش پذیر تھا ۔اس دوران وہ بڑے نشیب و فراز سے گزرا اور سمیعہ سے اس کے رومان کا سلسلہ بھی یہیں سے شروع ہوا اور پھر جدائی کا ایک طویل لمحہ دو دلوں کے درمیان دیوار بنا۔ حالات نے اُسے لندن پہنچا دیا۔ اور پھر جو کچھ اس پر گزری اس کی روداد پڑھیے اس ناول میں ۔۔۔۔
Download
Main-Ajnabi-Sahi By Syed All-e-Ahmad
Prof. Muhammad Akbar Qureshi

سید آل ِ احمد کی شاعری نوائے سروش چاہے ہو یا نہ ہو مگر اس میں انسانی دل کی دھڑکنیں ضرور بند ہیں۔ سید آلِ احمد کی شاعری وہ دوراہا ہے جہاں جدت اور قدامت کے راستےپھٹتے ہیں ۔ اُن کی '' لے '' ساز کے پردوں کی طرح کہیں نرم و شیریں ہے اور کہیں چونکا دینے والی!
Syed Aal-e-Ahmad Ki Shaa'ri Nawa-i-Sharosh Chahey Ho Yia Na Ho Magar Iss Main Insani Dil Ki Dahdkanain Zaroor Band Hain. Syed Aal-e-Ahmad Ki Shaa'ri Woh Do Raha Hai Jahan Jiddat Aur Qana'at K Raste Photte Hain. Un Ki ''Ley'' Saz K Pardoon Ki Tarah Hai
Download
Download
Aab-e-Kosar By Sh. Muhammad Ikraam .pdf
Prof. Muhammad Akbar Qureshi

Aab-e-Kosar By Sh. Muhammad Ikraam
یہ کتاب معروف مؤرخ و محقق ڈاکٹر شیخ محمد اکرام مرحوم کے سلسلۂ کوثر کی پہلی کڑی یعنی '' آب ِ کوثر '' ہے ۔ اس حصے میں ۷۱۱ ء تا ۹۸۰ ء کے واقعات یعنی دیباچہ ،عرب اور ہندو پاکستان کے قدیم تعلقات، فتح سندھ ،محمد بن قاسم کا نظم و نسق، محمد بن قاسم کے جانشین، عرب اور ہندو پاکستان کے علمی اور تمّدنی روابط،ساحلِ ہند پر عربوں کی بستیاں ، شرق الہند میں اشاعتِ اسلام۔ اس کتاب کے دوسرے میں امیرالدین سبکتگین،سلطان محمود غزنوی ،عہدِ غزنویہ میں علم و ادب ،علامہ ابو ریحان البیرونی،خطۂ لاہورکے علماء و مشائخ ،داتا گنج بخش لاہوری ، امام حسن صنعانی لاہوری ، سلطان سخی سرور کے بارے میں بیان کیا گیا ہے ۔ اس کتاب کے تیسرے حصے میں بعنوان دورِ توسیع و اشاعت کے تحت ۱۱۸۶ ء سے ۱۳۲۱ ء تک توسیع ِ حکومت (خاندانِ غلاماں اور خاندانِ خلجی) کے دور کا ذکر شامل ہے۔ یعنی ۱۔ سلطان معزالدین محمد غوری ۲۔ خاندان ِ غلاماں ۳۔ سلطان غیاث الدین بلبن ۴۔ عہدِ غلاماں میں علم و ادب ۵۔ ہندوستان میں اسلامی فقہ کا آغاز ۶۔ صدر الصدور قاضی مہناج سراج ۷۔ خاندان ِ خلجی ۸۔ سلطان علاءالدین خلجی ۹۔ عہدِ علائی میں علم و ادب ۱۰۔ طوطیِ ہند امیر خسرو۔ یہ کتاب پاک و ہند میں مسلمانوں کی سیاسی اور تمّدنی تاریخ کی حیثیت رکھتی ہے۔چوتھے حصے میں اشاعتِ اسلام کے حوالے سے سندھ،بنگال، گجرات، دکن اور کشمیر میں بزرگانِ دین کی خدمات کا جائزہ لیا گیا ہے ۔اور اس دور میں جو توسیع اسلام ہوئی اس کی بابت بیان کیا گیا ہے۔
''Aab-e-Kosar'' By Dr.Shekh Muhammad Akraam.
yeh Kitaab Ma'aroof Morikh -o- Muheqiq Dr. Shekh Muhammad Akraam (Marhom) K silsile -e- Kosar Ki pehli Kadi Hai.
yeh Kitaab Ma'aroof Morikh -o- Muheqiq Dr. Shekh Muhammad Akraam (Marhom) K silsile -e- Kosar Ki pehli Kadi Hai.
Jahan-e-Takhleeq Ka Shahab Compiled By Dr. Tahir Tonsvi
Prof. Muhammad Akbar Qureshi
Jahan-e-Takhleeq Ka Shahab Compiled By Dr. Tahir Tonsvi
'' جہان ِ تخلیق کا شہاب ''
میں محترم مؤلف کے وہ سارے مضامین شامل ہیں جو انہوں نے شہاب دہلوی کی شاعری اور نثر پر لکھے ہیں اس کے علاوہ مؤلف کے نام شہاب صاحب کے خطوط بھی شامل ہیں ۔ یہ سب شہاب صاحب کی تخلیقی شخصیت کے منظر نامے کو تشکیل دیتا نظر آتا ہے۔ اور اس جانب بھی لکھنے والوں کو متوجہ کرتا ہے کہ انہیں شہاب صاحب کو نظر انداز کرنے کی بجائے لائم لائٹ میں لانا چاہیےکہ یہ اُن کا حق بھی ہے اور اُن کی ادبی خدمات کا اعتراف بھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمیں اُمید ہے کہ کسی نہ کسی حوالے سے یہ کتاب شہاب دہلوی پر ریسرچ کرنے والوں کے لیےبہت مدد گار ثابت ہوگی ۔Download
نوٹ : اگر آپ شہاب دہلوی اورانکی تخلیقی کاوشوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں توہمارے بلاگ ''دبستاںِ بہاول پور کا وزٹ کیجیے ۔











